بنگلورو:29/اپریل(ایس او نیوز) ریاستی بی جے پی میں پیدا ہونے والے اختلافات کو بات چیت کے ذریعہ ختم کرنے کے مقصد سے بی جے پی کے ریاست کے نگران سکریٹری مرلی دھر راؤ آج شام بنگلور پہنچے۔ یڈیورپا اور ایشورپا کے درمیان گہرے ہورہے اختلافات کو حل کرنے کیلئے وہ دوروزہ دورہئ بنگلور پر پہنچے ہیں۔ برہم گروپ کے حق میں پارٹی کے قومی آرگنائزنگ سکریٹری سنتوش رکے ہوئے ہیں تو دوسری طرف پارٹی میں گروپ بندی کا آغاز کرنے والے قانون ساز کونس کے اپوزیشن لیڈر کے ایس ایشورپا کے خلاف تادیبی کارروائی کرنے یڈیورپا گروپ کے ذریعہ دباؤ میں اضافہ ہورہا ہے۔اس دوران یڈیورپانے برہم قائدین کے ذریعہ منعقدہ اجلاس کی تفصیلی رپورٹ پارٹی اعلیٰ کمان کو سونپ دی ہے۔ اس دوران یڈیورپا نے بتایاکہ اعلیٰ کمان کی ہدایت کے مطابق ایشورپا کے ساتھ موجود اختلافات ختم کرنے کی پہل کرتے ہوئے چند ضلعی صدور کو تبدیل کیاگیا اور چند قائدین کی معطلی منسوخ کردی گئی ہے، اس کے باوجود ایشورپا کے ذریعہ پارٹی مخالف سرگرمیاں جاری ہیں جو ناقابل برداشت ہیں۔یڈیورپانے امیت شا کی ہدایت پر کئی مرتبہ ایشورپا کے ساتھ تبادلہئ خیال کرتے ہوئے پارٹی کو مضبوط بنانے کی ہدایت دی تھی۔ دورہئ دہلی پر موجود یڈیورپانے آج ایشورپا کی پارٹی مخالف سرگرمیوں سے متعلق پارٹی قائدین کو رپورٹ پیش کرتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کی درخواست کی ہے۔اس دوران ایشورپا نے بتایاکہ مرلی دھر راؤ کے ذریعہ دعوت ملی تو وہ ان سے ضرور بات کریں گے۔ اور بتایا کہ یڈیورپا کے ذریعہ پارٹی کے قومی قائد بی ایل سنتوش کے خلاف جو بیانات دئے گئے ہیں اس پر انہیں معافی مانگنی چاہئے۔ان کے بیان سے سنگھ پریوار کے کارکنوں میں بی چینی پھیلی ہوئی ہے۔ بتایاجاتاہے کہ پارٹی کے قومی صدر امیت شا نے ریاست میں پارٹی کی صورتحال کا جائزہ لینے کے علاوہ حالات کو سدھارنے کیلئے مداخلت کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔ جس کے پیش نظر وہ اپنے ایک نمائندہ کو ریاست روانہ کرنے والے ہیں۔ ریاست میں بی جے پی کے اختلافات پر اب تک خاموشی سے دیکھ رہے امیت شا نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے پارٹی کے اہم فیصلوں پر نظر رکھنے کیلئے اپنے خاص نمائندہ کو روانہ کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔ جب س امیت شا پارٹی صدر بنے ہیں اسمبلی انتخابات کی حکمت عملی مرتب کرنے کیلئے ہر ریاست میں ایک نمائندہ کو روانہ کرنے کا سلسلہ شروع کرچکے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی پارٹی کے داخلی معاملات اور اہم فیصلوں پر بھی اس نمائندہ کو افزود اختیارات دئے جائیں گے۔ بی جے پی کو معلوم ہے کہ جنوب میں اگر کسی ریاست میں اقتدار مل سکتا ہے تو وہ صرف کرناٹک ہے، ایسے میں ریاست میں پارٹی کی جو صورتحال بنی ہوئی ہے اس پر قابو پانے کیلئے فوری اقدامات کئے جانے کی توقع ہے۔ پارٹی کو یہ بھی معلوم ہے کہ کسی بھی لیڈر کے خلاف تادیبی کارروائی سے معاملہ حل نہیں ہوگا، کیونکہ ان حالات کیلئے پارٹی کے چند قومی قائدین بھی ذمہ دار ہیں۔ ان حالات کیلئے اہم ذمہ دار قرار دئے جانے والے سنتوش آر ایس ایس کے قومی جوائنٹ جنرل سکریٹری ہیں۔ ایسے میں اگر کوئی سخت قدم اٹھایا گیاتو بی جے پی کو آگے صرف مایوسی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ریاست میں پارٹی کے حالات سے ایک طرف جہاں امیت شا برہم ہیں وہیں یڈیورپا کی کاکردگی سے انہیں مکمل اطمینان بھی نہیں ہے، جس کے سبب وہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔پارٹی کے اہم فیصلے کور کمیٹی کے اجلاس میں کرنے کی ہدایت کے باوجود اس پر عمل نہیں کیاگیا۔ اختلافات کے خاتمہ کیلئے 27 جنوری کو چار اراکین پر مشتمل ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی تھی، جس کا اب تک ایک بھی اجلاس منعقد نہیں ہوا ہے۔ جس سے برہم قائدین کی یہ دلیل صحیح ثابت ہوتی ہے کہ یڈیورپا کے یک طرفہ فیصلے پارٹی کیلئے نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں۔